Sunday, October 1, 2023

بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا پیپر مارکنگ اورچیکنگ سسٹم

 بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا پیپر مارکنگ اورچیکنگ سسٹم۔

RTI:



میں اپ سب لوگوں کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے پر دلانا چاہتا ہوں یہ معاملہ تقریبا 70 سالوں سے چل رہا ہے اور پورے پاکستان کو اس مسئلے کا سامنا ہے اور یہ مسئلہ ہے بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا پیپر مارکنگ اور چیکنگ سسٹم۔ہر مرتبہ نویں دسویں گیارہویں اوربارویں کے نتائج جب سامنے اتے ہیں تو بہت سے طلبہ و طالبات کو حیرانگی اور مایوسی کا دھچکا لگتا ہے کیونکہ ان کی نظر کے مطابق ان کا پرچہ یا پیپر جو انہوں نے نویں دسویں گیارہویں یا بارہویں کلاس کا دیا ہوتا ہے اس میں ان کے نمبر توقع سے بہت کم ہوتے ہیں بعض اوقات وہ بچے فیل بھی ہو جاتے ہیں جب وہ اپنی تسلی کے لیے اپنے پیپر کو ری چیک کرنے کی درخواست دیتے ہیں تو بورڈ ان سے فی پیپر تقریبا 1100 روپے چارج کرتا ہے۔ جب وہ اپنے پیپر کو دیکھنے جاتے ہیں یعنی ری چیک کے لیے جاتے ہیں تو صرف اس پیپر کا ٹوٹل ہی ری چیک کیا جاتا ہے اس کے سوالات وہ بے شک صحیح ہوں اور غلط کر دیے گئے ہوں اس کی شنوائی نہیں ہوتی ۔جب امیدوار اپنے پیپر چیک کرنے جاتا ہے تو اس کی گھڑی اس کا موبائل اس کا پرس یہ سب چیزیں رکھ لی جاتی ہیں اور اکیلے امیدوار کو ایک کمرے میں بھیجا جاتا ہے جب پیپر اس کے سامنے رکھ دیے جاتے ہیں پیپر میں بے شک اس کا سوال صحیح ہو اور اس کو غلط کر دیا گیا ہو وہ اس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔
RTI:

اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ ان تمام معاملات کا ذمہ دار کون ہے طالب علم جس نے سارا سال محنت کی اس کے سکول میں رزلٹس بہترین تھے سکول کے امتحانات میں اس بچے نے بہترین نمبر لیے لیکن بورڈ کے اندر اس کو فیل قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ پیپر چیک کرتا ہے تو پیپر میں سارے سوال صحیح ہوتے ہیں اور ان کو کراس کر کے غلط کیا گیا ہوتا ہے۔ یہ نظام کیا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور صحیح سوالوں کو غلط کیسے کر دیا جاتا ہے یہ چیز بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو بورڈ کا پیپر مارکنگ اور چیکنگ سسٹم سمجھتے ہیں بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مختلف جگہ پہ کلسٹر بنا کر وہاں پر پیپر اساتذہ سے چیک کروایا جاتا ہے۔ اساتذہ کی کوشش ہوتی ہے وہ کہ وہ کم از کم میں زیادہ سے زیادہ پیپر چیک کریں تاکہ ان کی دیہاڑی بن سکے یہ عام طور پر تقریبا ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ روپوں تک چلی جاتی ہے یعنی اساتذہ زیادہ سے زیادہ پیپر چیک کرتے ہیں اور کم از کم وقت میں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے بنا سکیں اس صورتحال میں اپ خود اندازہ کر لیں کہ وہ اساتذہ پیپر کو پڑھتے ہوں گے کہ نہیں پڑھتے ہوں گے۔ نان پروفیشنل اساتذہ جن کی اس مضمون پر گرفت بھی نہیں ہوتی ان کو یہ پیپر دے دیے جاتے ہیں اور ان کو کہا جاتا ہے کہ تم جتنے زیادہ پیپر کرو چیک کرو گے اتنی پیسے کماؤ گے اس صورتحال میں جب اساتذہ پیپر چیک کرتے ہیں تو نہ وہ پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور نہ پیپر کی کوالٹی کو چیک کرتے ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ پیپر زیادہ سے زیادہ چیک کیے جائیں۔



اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں ہم سب لوگ اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ جب بچے فیل ہونے کی وجہ سے یا کم نمبر لینے کی وجہ سے خودکشیاں کرتے ہیں ماں باپ ان کی فیسیں دوبارہ ادا کرتے ہیں اور پھر یہی پیپر انہی نکمے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جن کو نہ تو پیپر چیک کرنے کے معیار کا کوئی پتہ ہے اور نہ ہی انہوں نے پیپر چیک کرنے کا کوئی طریقہ وضع کیا ہوا ہے ۔میں اپ سب لوگوں کی توجہ اس مسئلے پر دلانا چاہتا ہوں برائے مہربانی اس معاملے کو اٹھائیں تاکہ اپ کے اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے اس آواز کو اٹھائیں بورڈ اف انٹرمیڈیٹ سیکنڈری ایجوکیشن کا یہ گھٹیا اور فضول طریقہ جس میں صرف پیپر کے ٹوٹل ہی چیک کیا جاتا ہے اس کو ختم کرنے میں ہماری مدد کریں اور بورڈ کے طریقے کار کو نئے سرے سے وضع کرنے میں ہماری مدد کریں تاکہ لائق طلباء کو ان کا حق مل سکے اس ضمن میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بورڈ کو چاہیے کہ وہ صرف ٹوٹل چیک کرنے کی بجائے بچوں کو اپیل کا بھی حق دیں کہ ان کے پیپرز دوسرے اساتذہ سے دوبارہ چیک کروائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ پہلے پیپر جن لوگوں نے چیک کیے ہیں کیا وہ معیار کے مطابق چیک کیے ہیں کہ نہیں ۔برائے مہربانی اس آواز کو بلند کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ میسج پہنچائیں تاکہ ذمہ داران کو اپنی غلطی کا احساس ہو سکے۔شکریہ

No comments:

Post a Comment